آن[2]

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - وقت، ساعت، گھڑی، دقیقہ۔ "ایٹمی گھڑی کی ٹک ٹک کے درمیان وقفے ہیں، ان وقفوں کو ہم آن کہہ سکتے ہیں"۔ ١ - تھوڑی دیر، دم بھر، لحظہ بھر (بیشتر 'ایک' کے بعد اور 'میں' سے پہلے)  ایک آن اس زمانے میں یہ دل نہ وا ہوا کیا جانیے کہ میر زمانے کو کیا ہوا      لیکن یہ بے خبر تیرا سودائے خام ہے آئی اجل تو آن میں قصہ تمام ہے      ( ١٨١٠ء، کلیات، میر، ٣١٧ )( ١٩٢٩ء، مطلح انوار، ٥٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں فعل ثلاثی مجرد سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر استعمال ہوتا ہے۔ "کدم راو پدم راو" میں ١٤٣٥ء میں پہلی بار مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وقت، ساعت، گھڑی، دقیقہ۔ "ایٹمی گھڑی کی ٹک ٹک کے درمیان وقفے ہیں، ان وقفوں کو ہم آن کہہ سکتے ہیں"۔

اصل لفظ: اون